کچھ دن پہلے کی بات ہے میں موٹر سائیکل پرسوار گلبرگ مین روڈ پر جا رہا تھا۔ حفیظ سنٹر کے بالکل سامنے ٹریفک وارڈن نے مجھے روک لیا اور اس نے اس بات پر میرا چالان کر دیا کہ آپ نے ہیلمٹ نہیں پہن رکھا۔ میں نے جا کر چالان ادا کیا اور جب واپس آیا اپنے کاغذات واپس لینے تو وہاں پر انہوں نے کچھ اور لوگوں کو بھی روک رکھا تھا جنہوں نے ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا ۔ انہوں نے ٹریفک وارڈن کی کسی سے فون پر بات کروائی اور اس کے بعد اس نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان کو چائے پانی کا پوچھ کر روانہ کر دیا۔ مجھے دل ہی دل میں بہت افسوس ہوا کہ ایسا بھی ہوتا ہے ۔ اس کے بعد کل میں نے ایک ٹریفک وارڈن کو فیروز پور روڈ پر جاتے ہوئے دیکھا جو بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل تو چلا ہی رہا تھا جب میں نے تھوڑا سا غور کیا تو اس کی نمبرپلیٹ بھی ٹوٹی ہوئی تھی جس پر نمبر غائب تھا۔ اگر کوئی عام آدمی اس طرح جا رہا ہوتا تو ٹریفک وارڈن ضرور اس کو روک کر اس کا چالان کرتے۔ تب میرے ذہن میں بار بار یہ آ رہا تھا کہ کیا ٹریفک وارڈن قوانین سے بری ذمہ ہیں کیا ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ؟ آپ کے خیال میں کیا ہونا چاہئیے ۔ اپنی رائے کمنٹ میں لکھیں۔ شکریہ

Please follow and like us: