ساحر لدھیانوی کا سحر آج بھی برقرارہے۔

بھارت کے مشہور ترین فلمی نغمہ نگار ساحر لدھیانوی نے فملی دنیا میں اپنے فن کا ایسا جادو جگایا کہ آج تک لوگ ان کے سحر سے نہیں نکل سکے

ساحر کے اشعار آج بھی لوگوں کی زبان پر رہتے ہیں ۔

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مزاق

آج تیرے لیے منظر الفت ہی سہی

تجھکو اس وادی رنگین سے عقیدت ہی سہی

میرے محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

پنجاب کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہونے والے ساحر ایک ترقی پسند شاعر تھے اور ان کا خیال تھا کہ فلم ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے لوگوں تک اپنی بات پہنچائی جا سکتی ہے ۔ ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا ہے ۔

اب تک میرے گیتوں میں امید بھی تھی پسپائی بھی

موت کے قدموں کی آہٹ بھی جیون کی انگڑائی بھی

مستقبل کی کرنیں بھی تھیں حال کی بوجھل ظلمت بھی

طوفانوں کا شور بھی تھا اور خوابوں کی شہنائی بھی

ساحر کے بارے میں ان کے دوست خیام کا کہنا تھا ۔  وہ اپنے شعروں میں سارا دکھ درد دیتے تھے اور ساری دنیا کو ایک پیغام دیتے تھے کہ انصاف سب کے لیے ہے انصاف سب کو ملنا چاہیےان کی شاعری میں امیری اور غریبی کے فرق کو بیان کیا گیا ہے وہ امیری کے خلاف نہیں تھے لیکن غریبوں کے ساتھ انصاف کرنے کو کہتے تھے ۔  ساحر نے روی روشن کے ساتھ بہت ساری فلموں کے گیت لکھے جو آج بھی مشہور ہیں ۔

ساحر کے چند مشہور گیت مندرجہ ذیل ہیں۔

کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آ تا ہے

ابھی نہ جاوؐ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں

ہم آپ کی آنکھوں میں اس دل کو بسا دیں تو

زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا

میں ہر ایک پل کا شاعر ہوں

 

Please follow and like us: